اقرارنے اپنے مداحوں کے ساتھ یہ خبر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کے بااختیار ہونے اور جمہوری اقدار کے فروغ کے ذریعے پاکستان کے سیاسی نظام میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ ایک ایسی سیاسی تحریک کا آغاز کرنے جا رہے ہیں جو روایتی طاقت کے ڈھانچوں کو ختم کرکے ان کی جگہ نوجوان، قابل اور آزاد خیال افراد کو سامنے لائے گی۔ اقرار حالیہ دنوں میں مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اپنی سیاسی سوچ عوام تک پہنچا سکیں اور ان سے حمایت حاصل کر سکیں۔
اگرچہ انہوں نے ابھی تک اپنی سیاسی جماعت کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن انہوں نے اسے ایک تحریک قرار دیا جو ایسے نوجوانوں کو متحد کرے گی جو جمہوریت، ادارہ جاتی اصلاحات اور احتساب پر یقین رکھتے ہیں۔
اقرار نے کہا کہ سیاسی اشرافیہ کے پیدا کردہ مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ نوجوان شخصیت پرستی اور خاندانی سیاست کو ترک کر کے ایک ایسی جمہوری جماعت بنائیں جو ادارہ جاتی اصولوں پر قائم ہو اور جس میں قیادت شفاف انتخابات اور مشاورت کے ذریعے منتخب کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب کی خالی نشست پر کون الیکشن لڑے گا؟ بیرسٹر گوہر کا اعلان
انہوں نے ملک بھر میں انتظامی کمیٹیاں قائم کرنے کا اعلان بھی کیا جنہیں وہ آگے چل کر ایک بڑی تحریک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس تحریک کی قیادت ووٹنگ کے ذریعے منتخب کی جائے گی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ سوال یہ ہے کہ جب نواز شریف، زرداری یا خان پارٹی یا ملک کے سربراہ بن سکتے ہیں تو ایک عام آدمی کیوں نہیں بن سکتا؟
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو سب سے پہلے اندرونی جمہوریت کو فروغ دینا چاہیے کیونکہ جب تک پارٹیوں کے اندر قیادت کی تبدیلی اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوں گے، حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک ہی شخص تیس سال تک پارٹی کا سربراہ رہے تو پارٹی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔
اقرار الحسن کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تحریک شخصیات کے گرد نہیں بلکہ نوجوانوں کی شمولیت اور جمہوری فیصلوں کے گرد گھومے گی، کوئی بھی عام شخص پارٹی کا چیئرمین یا ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔