مشہور بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر کو اغوا کے بعد آگ لگا دی گئی
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے 2 مشتبہ افراد کو نامزد کرلیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منجیت کور نے 26 اگست کو چندی گڑھ کے پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی جی آئی ایم ای آر) میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہاری۔ وہ کئی ہفتوں سے شدید جھلسنے کے باعث زیرِ علاج اور تشویشناک حالت میں تھی۔
اہل خانہ کی جانب سے پولیس کو دی گئی شکایت کے مطابق منجیت کور کو 3 جولائی کی رات چندی گڑھ کے سیکٹر 34 میں ایک شراب کی دکان کے قریب ملاقات کیلئے بلایا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شبھی اور پنڈا نامی 2 جاننے والوں نے اسے مبینہ طور پر زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور پنجاب کے شہر مورِندا لے گئے۔
اہل خانہ کے مطابق مورِندا میں منجیت کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں اسے شہتوت کے درخت سے باندھ کر آگ لگا دی گئی۔ ایک شخص نے اسے آگ کی لپیٹ میں دیکھا اور کمبل کی مدد سے آگ بجھانے کے بعد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا۔
منجیت کو ابتدائی طور پر موہالی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا، تاہم حالت تشویشناک ہونے پر 9 جولائی کو اسے پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ منتقل کردیا گیا، جہاں وہ کئی ہفتوں تک بے ہوش رہی۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 5 اگست کو منجیت کو مختصر طور پر ہوش آیا اور اس نے مبینہ حملے سے متعلق اپنے اہل خانہ کو بتایا، تاہم بعد میں اس کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی۔ شدید جھلسنے کے زخموں کے باعث وہ 26 اگست کو دم توڑ گئی۔
منجیت کی موت کے بعد چندی گڑھ پولیس نے سیکٹر 34 تھانے میں مقدمہ درج کرکے 2 مشتبہ افراد کو نامزد کرلیا ہے۔ پولیس ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے، جبکہ اہل خانہ اور دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:راکھی ساونت کی خانہ کعبہ کے سامنے خصوصی دعا، ویڈیو وائرل
پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔