بجلی ایک روپے 11 پیسے فی یونٹ مہنگی، صارفین پر 19 ارب روپے کا اضافی بوجھ
نیپرا کے جاری کردہ فیصلے کے مطابق اس اضافے کی رقم صارفین سے اکتوبر 2026 کے بجلی بلوں میں وصول کی جائے گی۔ اس کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔
نیپرا کے مطابق فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی اصل منظور شدہ شرح 1.1086 روپے فی کلو واٹ آور ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (CPPA-G) کی جانب سے ابتدائی طور پر 1.7267 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم ریگولیٹر نے جانچ پڑتال کے بعد اس سے کم ایڈجسٹمنٹ منظور کی۔
فیصلے کے تحت اگست میں بجلی کی حقیقی فیول لاگت 8.2084 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ ریفرنس فیول لاگت 7.0998 روپے فی یونٹ مقرر تھی۔ دونوں کے درمیان فرق کو فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: میٹرک طلبہ کو ای بائیکس کی فراہمی کا عمل شروع
ذرائع کے مطابق اگست کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں بجلی صارفین سے مجموعی طور پر تقریباً 19 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے، جس سے پہلے ہی مہنگائی اور بلند بجلی بلوں کا سامنا کرنے والے صارفین پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔
نیپرا کے فیصلے کے مطابق لائف لائن صارفین کو اس اضافے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور مخصوص پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین بھی اس ایڈجسٹمنٹ سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔
نیپرا کے مطابق اگر کسی صارف کا اکتوبر کا بل فیصلہ باضابطہ طور پر جاری ہونے سے پہلے تیار ہو چکا ہو تو ایڈجسٹمنٹ کی رقم اگلے بل میں شامل کی جا سکتی ہے۔