خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا
خطے میں جاری فوجی کارروائیوں اور خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے سرمایہ کاروں اور درآمد کنندہ ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت میں ایک ڈالر، یعنی تقریباً 1.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 92.25 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 82 سینٹ یا ایک فیصد اضافے کے ساتھ 85.50 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج نے ایران کے فوجی اہداف پر مسلسل 11ویں رات بھی حملے جاری رکھے، جبکہ بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری انتباہ کے بعد متعدد آئل ٹینکروں نے اپنی گزرگاہیں تبدیل کر لیں۔ اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں تازہ کارروائیاں منگل کی شب شروع کی گئیں، جبکہ کویتی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں ہڑتال کی کال پر 375 پٹرول پمپس بند
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔