روٹی مزید مہنگی؟ تندور مالکان نے وارننگ دے دی
تندور مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقررہ نرخ پر آٹے کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا رہی، جبکہ فلور ملز اب بھی انہیں تقریباً 145 روپے فی کلو کے حساب سے آٹا فروخت کر رہی ہیں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باوجود انہوں نے تاحال روٹی اور نان کی قیمتوں میں کوئی نیا اضافہ نہیں کیا، تاہم موجودہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں پر نظرثانی ناگزیر ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تندور مالکان نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں 5 روپے اضافہ کیا تھا۔
اس اضافے کے بعد 25 روپے میں فروخت ہونے والا نان 30 روپے جبکہ 20 روپے والی روٹی 25 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، اسی طرح چپاتی کی قیمت 20 روپے برقرار ہے۔
دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی مؤثر پالیسیوں کے باعث اس سال گندم کی بمپر فصل ہوئی، تاہم فصل کی کٹائی کے فوراً بعد ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے بڑی مقدار میں گندم غیر قانونی طور پر ذخیرہ کر لی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کریک ڈاؤن کے دوران 17 لاکھ ٹن گندم برآمد کی، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً 13 روپے فی کلو کمی آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضبط شدہ گندم سرکاری نرخ پر فراہم کی جائے گی، جبکہ ذخیرہ اندوزوں کو اب بھی موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی گندم سرکاری گوداموں میں جمع کرا دیں، بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:کامن ویلتھ اور چینی اسکالرشپس کے خواہشمند طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری
تندور مالکان اور حکومت کے درمیان آٹے کی قیمتوں سے متعلق جاری صورتحال کے باعث شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو روزمرہ استعمال کی بنیادی غذائی اشیا مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔