نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں سے متعلق گورنر سٹیٹ بینک کا اہم بیان

گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ آنے میں تاخیر کا امکان ہے۔
فائل فوٹو
Updated 20 گھنٹے قبل | Published May, 15 2026 | Muhammad Bilal
کراچی: (ویب ڈیسک) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ آنے میں تاخیر کا امکان ہے۔

ایک تقریب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کی جانب سے نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹ منظوری کیلئے حکومت کو بھجوائے گئے تھے تاہم حکومت نے ڈیزائن میں کچھ تبدیلیاں اور مزید بہتر کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کو واپس بھیجے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر کام کر رہا ہے ، نئے نوٹ کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔

علاوہ ازیں گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ تین سال قبل اور آج کے معاشی حالات میں نمایاں فرق ہے، معاشی بحالی کے باوجود کئی مسائل درپیش ہیں، مشرقِ وسطیٰ جنگ کے معاشی چیلنجز بھی موجود ہیں تاہم 2023ء کی نسبت 2026ء میں لیٹر آف کریڈٹ کھلنے میں بہتری آئی ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ پاکستان کی اوسط درآمدات فی الوقت ماہانہ 5 ارب ڈالر سے زائد ہیں، تین سال قبل ماہانہ درآمدات اوسطاً 3 ارب ڈالر تھیں، اسٹیٹ بینک کی اصلاحات سے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے، حوالہ ہنڈی کو کنٹرول کرنے سے لے کر ترسیلاتِ زر پر کام کیا۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، رواں مالی سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے زائد آئیں گی، رواں مالی سال کے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عید کیلئے نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کئے جاسکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مالی سال 26ء کے بقیہ تین ماہ میں خام تیل کی قیمتیں کرنٹ اکاؤنٹ کو متاثر کر سکتی ہیں، رواں مالی سال مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ کم ترین خسارے میں رہے گا، اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ 0 سے ایک فیصد خسارے میں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 سال میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہو گئے، اسٹیٹ بینک نے کوشش کی ہے کہ بیرونی قرضوں کو کنٹرول میں رکھا جائے،4 سال قبل حکومت اور اسٹیٹ بینک کا مجموعی بیرونی قرضہ 102 ارب ڈالر تھا، مارچ 2026ء میں بیرونی قرضے 103 ارب ڈالر ہیں۔

گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ گزشتہ سال برآمدات 32 ارب ڈالر تھیں جبکہ رواں سال 30 ارب ڈالر کا تخمینہ ہے، حکومت برآمدات میں اضافے پر نظریں جمائے ہوئے ہے، دو ماہ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ادارہ شماریات نے رواں مالی سال کے 9 ماہ میں جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد لگایا ہے، اسٹیٹ بینک نے جنوری میں تخمینہ لگایا تھا کہ رواں مالی سال معاشی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہے گا، رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو متاثر ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ تیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو بہتر رہی، نظر ثانی میں مزید بہتر آئے گی، گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو اوسطاً 3.4 فیصد رہی ہے۔

اس کو بھی دیکھیں: نئے کرنسی نوٹوں کی گونج، پرانے نوٹ چلیں گے یا نہیں؟

مرکزی بینک کے گورنر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے وسط سے اسٹیٹ بینک کا مہنگائی بڑھنے کا تخمینہ تھا، مالی سال 26ء کی آخری سہ ماہی میں افراطِ زر کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کرے گی، اسٹیٹ بینک نے مہنگائی بڑھنے کی پیشگوئی تب کی جب مہنگائی 0.3 فیصد تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے افراطِ زر کی شرح کو 5 سے 7 فیصد کے درمیان رکھا جائے، پر امید ہیں کہ افراطِ زر میں بتدریج کمی واقع ہو گی، گزشتہ سال ایس ایم ایز کی ریگولیشن پر نظر ثانی کی ہے، بینک اپنا ایس ایم ای پلان بنانے کے پابند ہیں۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز کے قرضوں کیلئے صرف ایک صفحے کا فارم جاری کیا ہے، ایس ایم ایز کے قرضوں کی پیچیدگیوں کو کم کیا ہے، حال ہی میں وزیر اعظم کے ساتھ ایس ایم ایز پر میٹنگ کی ہے، ایس ایم ایز پر حکومت کا بھی کافی دھیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی نمو سے ہی جی ڈی پی کی نمو ہو گی، جون 2024ء میں ایس ایم ایز کو جاری قرضے 491 ارب روپے تھے، دسمبر 2025ء میں ایس ایم ایز کے قرضے 882 ارب روپے تک بڑھا دیئے، جون 2028ء تک ایس ایم ایز کے قرضے 1500 ارب روپے تک بڑھائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں: عید الفطر پر نئے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے اہم خبر

گورنر مرکزی بینک نے کہا کہ برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی حالات ہیں، گزشتہ سال کی برآمدات میں اضافے کی وجہ چاول کی 3.5 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں، عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتیں گرنے سے چاول کی برآمدی قیمت میں ایک ارب ڈالر تک کمی ہوئی ہے۔

سٹیٹ بینک کے گورنر نے مزید کہا کہ پنکی سمیت کسی بھی اکاؤنٹ کے غلط استعمال کے لئے قانون موجود ہے ، متعلقہ بینک قانون اور مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق کارروائی کرتا ہے ، متعلقہ بینک کارروائی کی رپورٹ مختلف اداروں کو بھی بھیجتا ہے۔