عید الفطر پر نئے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے اہم خبر
عید الفطر پر نئی کرنسی نوٹ
عیدالفطر کی آمد کے ساتھ ہی نئے کرنسی نوٹوں کی غیر قانونی فروخت کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا/ فائل فوٹو
راولپنڈی (ویب ڈیسک): عیدالفطر کی آمد کے ساتھ ہی نئے کرنسی نوٹوں کی غیر قانونی فروخت کا کاروبار ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا، جہاں جڑواں شہروں میں منافع خور سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ نرخ وصول کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف تجارتی مراکز میں نئے کرنسی نوٹوں کے سٹالز سجا دیے گئے ہیں، جہاں نوٹوں کی گڈیاں کھلے عام اضافی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ راولپنڈی کے مصروف علاقوں راجہ بازار، صدر اور کمرشل مارکیٹ میں ریڑھیوں اور عارضی سٹالز پر نئے نوٹ دستیاب ہیں، جبکہ ہر گڈی پر بھاری کمیشن وصول کیا جا رہا ہے۔

10 روپے والے نئے نوٹوں کی ایک ہزار روپے کی گڈی 1,500 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، یعنی خریداروں سے 500 روپے اضافی لیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح 20 روپے والے نئے نوٹوں کی دو ہزار روپے کی گڈی 2,600 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، جس پر 600 روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ بھر میں 23 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان

مزید یہ کہ 50 روپے کے بیس نئے نوٹ، جن کی مجموعی مالیت ایک ہزار روپے بنتی ہے، 1,300 روپے میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ 100 روپے کے صرف دس نئے نوٹوں کے لیے 1,400 روپے تک طلب کیے جا رہے ہیں، جو عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر بچوں اور عزیز و اقارب کو عیدی دینے کے لیے نئے کرنسی نوٹوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے، تاہم بینکوں سے نئے نوٹوں کی محدود فراہمی اور حصول میں مشکلات کے باعث وہ مجبوراً نجی ڈیلرز سے مہنگے داموں نوٹ خرید رہے ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بینکوں میں نئے نوٹوں کی فراہمی کو مؤثر اور آسان بنایا جائے تو بلیک مارکیٹ کے اس دھندے کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منافع خور عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عیدالفطر کے موقع پر عوام کو مناسب طریقے سے نئے نوٹوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ انہیں غیر قانونی فروخت کنندگان کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
 

ضرور پڑھیں