بھارت: ٹریفک جرمانے بجلی کے بل کیساتھ وصول کرنے پر غور
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں ٹریفک قوانین کی ڈیجیٹل نگرانی اور زیرِ التوا جرمانوں کی وصولی سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جس دوران دو رکنی بینچ نے جرمانوں کی وصولی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
عدالت نے تجویز دی کہ نادہندگان سے ٹریفک جرمانوں کی رقم بجلی کے بل کے ذریعے وصول کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے زیرِ التوا ای چالان رکھنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی تجدید روکنے، ملکیت کی منتقلی پر پابندی عائد کرنے، گاڑی کو ٹرانسپورٹ پورٹل پر بلیک لسٹ کرنے سمیت دیگر اقدامات پر بھی غور کرنے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں خاص سہولت کے بغیر چلنے والے شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
عدالت کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ ایسے گاڑی مالکان کے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید روکی جائے، پہلے سے جاری لائسنس معطل کیے جائیں جبکہ فٹنس اور پی یو سی سرٹیفکیٹس کے اجرا یا تجدید کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اچانک چیکنگ کے دوران اگر گاڑی کے ذمہ واجب الادا جرمانہ موجود ہو اور موقع پر ادائیگی نہ کی جائے تو گاڑی ضبط کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔
سماعت کے دوران بھارتی سپریم کورٹ کے ججز نے ریمارکس دیے کہ بڑی تعداد میں ٹریفک چالان جاری کرنا کافی نہیں، اصل مسئلہ جرمانوں کی رقم کی وصولی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں تقریباً 45 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے ای چالان واجب الادا ہیں، جن میں سے تقریباً25 ہزار کروڑ بھارتی روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔
عدالت نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے جرمانوں کی مؤثر وصولی کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔