سرکاری سکولوں میں طلبہ کے اے آئی استعمال پر ایک سال کی پابندی
نئی پالیسی کے تحت آٹھویں جماعت تک تقریباً 6 لاکھ طلبہ سرکاری سکولوں میں اے آئی کے استعمال سے متاثر ہوں گے، جبکہ طلبہ کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً 40 اے آئی تعلیمی ٹولز کا استعمال روک دیا جائے گا۔
میئر ظہران ممدانی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی بہتر تعلیم اور نشوونما کے لیے اساتذہ اور انسانی رابطہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مہارتیں سیکھنے، اساتذہ سے تعلق قائم کرنے اور مشکل مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔
نئی پالیسی کے تحت ہائی سکول کے طلبہ کو مخصوص حالات میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم تمام جماعتوں کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔ طلبہ کو مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی اور تربیتی کلاسز بھی فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیزاور دوسرے صوبوں کے شہریوں کیلئے ڈرائیونگ لائسنس کا حصول آسان
دوسری جانب اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور بعض انتظامی امور کے لیے اے آئی سے مدد لینے کی اجازت ہوگی۔ خصوصی ضروریات رکھنے والے طلبہ اور بعض مخصوص تعلیمی پروگراموں کے لیے بھی پالیسی میں استثنیٰ رکھا گیا ہے۔
نیویارک کے سرکاری سکول اس سے قبل 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کرچکے ہیں، تاہم بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت آئندہ ایک سال کے دوران کلاس رومز میں اے آئی کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تعلیمی پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔