مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے وسائل بروئے کار لائیں، نئے سکیورٹی نظام پر چینی صدر کی 4 نکاتی تجویز
چینی صدر شی جن پنگ بدھ کو مصر پہنچے، جہاں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ میں ان کا شاندار استقبال کیا ہے۔ یہ شی جن پنگ کا تقریباً 10 سال بعد مصر کا پہلا دورہ ہے۔
چینی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جب کہ ایران سمیت دیگر ممالک مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں امریکی موجودگی اور مداخلت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل سے متعلق اپنی چار نکاتی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ چین خطے کے ممالک کی جانب سے اچھی ہمسائیگی کے اصول پر مبنی دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی اڈوں پر جوابی حملہ کر دیا
صدر شی جن پنگ نے نئے سکیورٹی سسٹم کے قیام کے لیے 4 نکاتی تجویز پیش کرتے ہوئے خطے میں مشترکہ، جامع، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی کے وژن کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے خطے کے ممالک اپنے وسائل کو بروئے کار لائیں، مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی بنائیں، ترقی کی بنیاد کو مضبوط بنائیں اور بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری کو بہتر بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ان چاروں نکات پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔
عبدالفتاح السیسی اور شی جن پنگ نے مصر اور چین کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو وسیع اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیا۔
چینی صدر نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کے باعث بحران کے پیشِ نظر علاقائی جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بھی علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مصر روایتی طور پر امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جو واشنگٹن سے سالانہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد وصول کرتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں قاہرہ نے بیجنگ کے ساتھ اقتصادی اور عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔