مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے وسائل بروئے کار لائیں، نئے سکیورٹی نظام پر چینی صدر کی 4 نکاتی تجویز

شی جن پنگ کا تقریباً 10 سال بعد مصر کا پہلا دورہ/فائل فوٹو
شی جن پنگ کا تقریباً 10 سال بعد مصر کا پہلا دورہ/فائل فوٹو
Updated | Published September, 2 2026 |
لاہور(ویب ڈیسک)چین نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے لیے نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کے لیے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لائیں اور بیرونی مداخلت کی مخالفت کریں۔ چین خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے کو تیار ہے

چینی صدر شی جن پنگ بدھ کو مصر پہنچے، جہاں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ میں ان کا شاندار استقبال کیا ہے۔ یہ شی جن پنگ کا تقریباً 10 سال بعد مصر کا پہلا دورہ ہے۔

چینی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جب کہ ایران سمیت دیگر ممالک مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں امریکی موجودگی اور مداخلت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل سے متعلق اپنی چار نکاتی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ چین خطے کے ممالک کی جانب سے اچھی ہمسائیگی کے اصول پر مبنی دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی اڈوں پر جوابی حملہ کر دیا

صدر شی جن پنگ نے نئے سکیورٹی سسٹم کے قیام کے لیے 4 نکاتی تجویز پیش کرتے ہوئے خطے میں مشترکہ، جامع، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی کے وژن کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے خطے کے ممالک اپنے وسائل کو بروئے کار لائیں، مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی بنائیں، ترقی کی بنیاد کو مضبوط بنائیں اور بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری کو بہتر بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ان چاروں نکات پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔

عبدالفتاح السیسی اور شی جن پنگ نے مصر اور چین کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو وسیع اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیا۔

چینی صدر نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کے باعث بحران کے پیشِ نظر علاقائی جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بھی علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مصر روایتی طور پر امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جو واشنگٹن سے سالانہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد وصول کرتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں قاہرہ نے بیجنگ کے ساتھ اقتصادی اور عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 277.36 ▲ 0.07
🇪🇺 Euro EUR → PKR 321.53 ▼ 0.53
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 374.84 ▼ 0.77
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.59 ▲ 0.15
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.51
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.27 ▲ 0.05
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 465,471 ▲ 1,880
Gold 22K Per Tola 426,682 ▲ 1,724
Gold 21K Per Tola 407,287 ▲ 1,645
Gold 18K Per Tola 349,103 ▲ 1,410
Silver Per Tola 6,943 ▲ 38
Platinum Per oz (USD) 1,842 ▲ 13.8%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 342.79
Diesel HSD Per Litre 252.03
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 286.44
LPG Per Kg 258.65
ضرور پڑھیں