کویت میں بڑی پابندی ختم، پاکستانی لیبر کے لیے بھی اہم پیش رفت
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ پابندی ہر سال یکم جون سے 31 اگست تک نافذ کی جاتی ہے تاکہ شدید گرمی کے دوران کارکنوں کو ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور دیگر طبی خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ پابندی کا مقررہ عرصہ ختم ہونے کے باوجود تمام کمپنیوں، کارخانوں اور آجروں کی ذمہ داری برقرار رہے گی کہ وہ کارکنوں کے لیے محفوظ اور صحت بخش ماحول فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ،پتنگ و ڈور بنانے کی اجازت 6 ماہ قبل دینے کا فیصلہ
ادارے کے مطابق فیلڈ انسپکشن ٹیمیں کام کی جگہوں کا معائنہ جاری رکھیں گی تاکہ پیشہ ورانہ صحت و سلامتی سے متعلق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
پاکستانی لیبر کے لیے بھی یہ فیصلہ اہم ہے، کیونکہ کویت میں بڑی تعداد میں پاکستانی ورکرز مختلف شعبوں، خصوصاً تعمیرات، سروسز اور دیگر فیلڈ ورک سے وابستہ ہیں۔ موسمی پابندی کے خاتمے کے بعد پاکستانی سمیت تمام غیر ملکی کارکنوں کو کام کے دوران حفاظتی اقدامات، مناسب آرام اور صحت کے تقاضوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔