دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو نییمبا انتقال کرگئے
وہ 1995 میں محض تین سال کی عمر میں تخت پر بیٹھنے کے بعد دنیا کے کم عمر ترین حکمران بن گئے تھے۔
ریاست تورو کے وزیر اعظم کیلون آرمسٹرانگ روومیئرے اکییکی نے بادشاہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بادشاہ جمعرات کی رات تقریباً 10 بجے مقامی وقت پر انتقال کرگئے، تاہم ان کی موت کی وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔
اویو نییمبا نے اپنے والد بادشاہ پیٹرک ڈیوڈ میتھیو کابوی اولیمی سوم کے انتقال کے بعد 12 ستمبر 1995 کو صرف تین سال کی عمر میں ریاست تورو کا تخت سنبھالا تھا۔ کم عمری میں بادشاہ بننے کے باعث ان کا نام عالمی سطح پر بھی نمایاں ہوا۔
یوگنڈا ایک جمہوریہ ہے جہاں منتخب صدر ملک کے انتظامی معاملات چلاتے ہیں، تاہم ملک میں متعدد روایتی بادشاہتیں اب بھی موجود ہیں۔ ان روایتی بادشاہتوں کے پاس سیاسی اختیارات محدود اور زیادہ تر علامتی نوعیت کے ہیں، لیکن ثقافتی اور سماجی سطح پر انہیں خاص اہمیت حاصل ہے۔
ریاست تورو مغربی یوگنڈا میں واقع ایک چھوٹی روایتی بادشاہت ہے اور جمہوریہ کانگو کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
یوگنڈا کے حکومتی وزیر بالَم باروغاہارا نے بادشاہ کی وفات سے کچھ دیر قبل بتایا تھا کہ اویو نییمبا امریکا میں زیر علاج تھے۔ تاہم ان کی بیماری یا موت کی وجہ کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ریاست تورو کے وزیر اعظم نے بادشاہ کی وفات کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اویو نییمبا غیر شادی شدہ تھے، تاہم تاج کی جانشینی اور بادشاہت کا تسلسل یقینی بنایا جائے گا۔
بادشاہ کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد یوگنڈا میں سوشل میڈیا پر سوگ اور تعزیت کا سلسلہ شروع ہوگیا، جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی ان کی وفات کو نمایاں طور پر نشر کیا۔