ننھے پھول... رخصت ہوئے... ہم کلام بھی
ہم تو پھول تھے چمن کے
پر شعلوں میں آ گِھرے ہیں
آغازِ زندگی میں ہی
موت سے جا ملے ہیں
ابھی تو سانسیں یکجاں ہوئیں تھیں
آنکھیں کھلنا شروع ہوئیں تھیں
ابھی نیند کے معنی
سَمَجھنْے تھے ہم نے
کچھ خواب دیکھنا شروع کیے تھے
ابھی تو لفظوں سے دوستی ہوئی تھی
جملے کہاں سبھی ادا ہوئے تھے
چاند، ستارے، رات، اندھیرا
سورج، آسمان، صبح اور سویرا
انجان تھے ہم ان سب باتوں سے،
ریت، رواج، رشتے ناتوں سے
ہاں مگر آشنا تھے ہم پیار کے احساس سے
ماں کی کوکھ میں. . . پھر گود میں. . . پھر بانہوں کے حصار سے
اب تو شعلے ہیں ہر طرف در و دیوار میں
بھڑکتی آگ میں جُھلَس گئے ہیں جسم ہمارے
جیسے بن کھلے ہی مرجھا گئے ہوں
پھول بہت سارے
سنتے ہیں کہ اندھیری قبروں میں
چھوڑ آئیں گے ہمیں
مٹی ڈال کر پھولوں سے
پھر سجائیں گے اُنہیں
مرنے کے بعد بھی ہمیں
کہاں چین آئے گا
ماں کا تڑپنا، باپ کا سسکنا
ہر پل ہمیں ستائے گا
اب ایسا کریں گے
کہ خوابوں میں ان کے آ کر
مل کر ان سے کہہ جائیں گے
روزِ محشر ہم ان کی
شفاعت کا سبب بن جائیں گے
(کاشف شمیم صدیقی)