ایران کے خلاف فوجی کارروائی؟ امریکا کا بڑا اعلان
ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
جے ڈی وینس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران عالمی تجارتی راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تک تیل کی ترسیل ہورہی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے عالمی توانائی بحران پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے کام کیا جارہا ہے، ایران اگر تیل اور گیس کی عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور امریکا خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کیخلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیا، ان کا کہنا ہے کہ ایران کے معاشی حساب کا وقت آگیا ہے اور تہران کو سہارا دینے والے تمام معاشی راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کے مفتی اعظم کا اہم پیغام سامنے آگیا
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ایرانی حکومت کی مالی معاونت ختم کرنا واشنگٹن کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ ایران کے ساتھ معاشی تعاون کرنے والے ممالک اور ادارے بھی ممکنہ امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔