ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا نیا فیصلہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو
Updated | Published August, 17 2026 |
(ویب ڈیسک) اس کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی ٹرانس جینڈ کے لیے جاری کیے خصوصی شناختی کارڈز اس مقدمے کا فیصلہ آنے تک برقرار رہیں گے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی

بھارت میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق نئے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت میں ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔

جس پر حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ نئے قانون کے نفاذ سے قبل جاری کیے گئے ٹرانس جینڈر شناختی کارڈز بدستور قابلِ قبول رہیں گے اور زیرِ سماعت مقدمات کے حتمی فیصلے تک ان پر نئے قانون کا اثر نہیں پڑے گا۔

سینئر وکیل جینا کوتھاری نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ جن ٹرانس جینڈر افراد کے پہلے سے جاری شناختی کارڈ منسوخ کیے جاچکے ہیں انہیں بحال کرنے کا عمومی حکم دیا جائے۔

تاہم بینچ نے کہا کہ اس مرحلے پر وہ تمام معاملات کے لیے عمومی حکم جاری نہیں کرسکتی۔ عدالت نے درخواست گزاروں سے کہا کہ جن افراد کے کارڈ منسوخ ہوئے ہیں وہ انفرادی کیسز کی تفصیلات کے ساتھ الگ درخواستیں دائر کریں۔ٹرانس جینڈر حقوق کے کارکنوں اور متعدد درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف ہے کہ 2026 کی ترمیم نے 2019 کے قانون میں موجود خود اپنی صنفی شناخت متعین کرنے کے حق کو محدود کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشہور اداکارہ 35 برس کی عمر میں چل بسی

نئے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاست کسی فرد کی صنفی شناخت کو طبی معائنے، میڈیکل بورڈ یا سرکاری تصدیق سے مشروط نہیں کرسکتی کیونکہ شناخت، وقار، خودمختاری اور نجی زندگی کے حقوق بھارتی آئین کے تحت بنیادی حقوق سے منسلک ہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق ترمیم شدہ قانون میں ٹرانس جینڈر شناخت کے لیے طبی اور انتظامی تصدیق کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے وہ افراد متاثر ہوسکتے ہیں جو اپنی شناخت کو ریاستی یا طبی سرٹیفکیشن کے بغیر تسلیم کرانے کے خواہاں ہیں۔

سپریم کورٹ میں پہلے کی سماعتوں کے دوران بھی اس بات پر بحث ہوئی تھی کہ نئی قانون سازی نے خود شناخت کے اصول کی جگہ طبی شناخت اور سرکاری تصدیق کا نظام متعارف کرایا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو آئینی سوال قرار دیتے ہوئے مرکز سے جواب طلب کیا تھا۔

درخواست گزاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ شناختی سرٹیفکیٹ سے منسلک نظام میں تبدیلی کے باعث بعض افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں، طبی سہولیات، وظائف اور دیگر مراعات کے حصول میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) امینڈمنٹ ایکٹ 2026 بھارتی پارلیمنٹ نے مارچ میں منظور کیا تھا اور صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون بن گیا۔ ترمیم میں ٹرانس جینڈر شخص کی قانونی تعریف میں تبدیلی، شناخت کے لیے تصدیقی طریقہ کار اور بعض جرائم کے لیے سزاؤں میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں 2014 کے سپریم کورٹ کے NALSA فیصلے میں تسلیم کیے گئے اصولوں سے متصادم ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون کا مقصد ٹرانس جینڈر افراد کے تحفظ کو مؤثر بنانا اور شناختی نظام کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔

عدالت نے مئی کی سماعت میں یہ خدشہ بھی اٹھایا تھا کہ بعض افراد سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو غلط طور پر ٹرانس جینڈر ظاہر کرسکتے ہیں۔ تاہم حتمی طور پر یہ طے ہونا باقی ہے کہ نئی قانون سازی آئین کے بنیادی حقوق اور 2014 کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے۔
 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 277.18 ▼ 0.24
🇪🇺 Euro EUR → PKR 321.12 ▲ 0.22
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 375.63 ▲ 0.31
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.98 ▲ 0.06
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.47 ▼ 0.07
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.11 ▼ 0.03
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 455,622 ▲ 2,386
Gold 22K Per Tola 417,653 ▲ 2,187
Gold 21K Per Tola 398,669 ▲ 2,088
Gold 18K Per Tola 341,716 ▲ 1,790
Silver Per Tola 6,735 ▲ 20
Silver Per Tola 6,735 ▲ 20
Platinum Per oz (USD) 1,754 ▲ 32.3%
Platinum Per oz (USD) 1,754 ▲ 32.3%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 325.43
Diesel HSD Per Litre 249.03
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 289.75
LPG Per Kg 254.32
ضرور پڑھیں