شام کے معزول صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی گئی
شامی عدالت نے منگل کے روز بشار الاسد اور ماہر الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی۔ یہ مقدمہ شام میں تقریباً 14 سال تک جاری رہنے والے تنازعے کے دوران مبینہ طور پر کیے گئے سنگین جرائم سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 5 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
اسی مقدمے میں بشار الاسد کے ماموں زاد بھائی عاتف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔ عاتف نجیب پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے جنوبی صوبے درعا میں 2011 کے دوران حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کی تھی، جس کے بعد احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کی اور شام میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک پر حملہ ہوا تو جواب دیں گے، ترک وزیر خارجہ
عدالت میں فیصلہ سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت سنایا گیا۔ عاتف نجیب قیدیوں کی وردی میں پنجرے نما کٹہرے میں موجود تھے، جہاں جج نے ان کے خلاف فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
عاتف نجیب شامی فوج میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ 2011 میں وہ بشار الاسد کی حکومت کے تحت جنوبی شام کے صوبے درعا میں سیاسی سکیورٹی شاخ کے سربراہ تھے۔
رپورٹس کے مطابق بشار الاسد دسمبر 2024 میں اپنے خاندان کے ہمراہ ماسکو فرار ہوگئے تھے، جب اپوزیشن فورسز دمشق میں داخل ہو رہی تھیں۔ بعد ازاں عاتف نجیب کو گرفتار کرلیا گیا اور وہ سابق شامی حکومت کے ان اعلیٰ عہدیداروں میں شامل ہوگئے جن کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔