آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو ایران کی شرائط ماننا ہوں گی، پاسداران انقلاب
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر سردار محبی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ تہران کی مقرر کردہ شرائط اور طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر سردار محبی نے کہا کہ اگر امریکا علاقائی مذاکرات میں مداخلت سے باز رہتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اس اہم آبی گزرگاہ کے حوالے سے فیصلہ ایران کی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایران کی جغرافیائی طاقت کا بھی اہم حصہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک باہمی تعاون کو فروغ دے کر اپنی سلامتی خود یقینی بنا سکتے ہیں۔
علی اکبر ولایتی کا کہنا تھا کہ خطے میں بدامنی کی بنیادی وجوہات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت شامل ہے، اس لیے ان طاقتوں کو خطے سے نکل جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے اس کی صورتحال میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات عالمی سطح پر بھی خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔