قرآنِ کریم کی آیات کاغذ سے پہلے کن پر لکھی جاتی تھیں؟ حیرت انگیز حقائق جانیے
عرب میڈیا کے مطابق عہدِ نبوی ﷺ میں قرآنِ کریم کی حفاظت کیلئے کاتبانِ وحی مختلف قدرتی اور دستیاب اشیاء پر آیات تحریر کیا کرتے تھے۔ ان میں چمڑا (ادیم)، کھجور کی شاخیں، لکڑی کے ٹکڑے، پتھر اور جانوروں کی ہڈیاں، خصوصاً کندھے اور پسلیوں کی ہڈیاں شامل تھیں۔ ان ذرائع نے قرآنِ کریم کی آیات کو محفوظ رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔
مکہ مکرمہ کے ثقافتی مقام حیِ حراء میں قائم قرآنِ کریم میوزیم میں ان تاریخی اشیاء کے نمونے محفوظ کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کو یہ معلوم ہو سکے کہ نزولِ وحی کے زمانے میں قرآنِ کریم کی کتابت کس انداز میں کی جاتی تھی۔
ان تمام ذرائع میں چمڑا (ادیم) سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا تھا، کیونکہ یہ مضبوط، پائیدار اور طویل عرصے تک تحریر کو محفوظ رکھنے کیلئے موزوں سمجھا جاتا تھا۔ چمڑے کو دباغت کے عمل سے گزار کر قابلِ استعمال بنایا جاتا، جس کے بعد اس پر قرآنِ کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں۔
میوزیم میں موجود ہر نمونے کے ساتھ معلوماتی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر چیز کو کیوں منتخب کیا گیا، اس پر لکھنے کا طریقہ کیا تھا اور اس کی تاریخی اہمیت کیا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطابق بعد ازاں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں قرآنِ کریم کو پہلی مرتبہ ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا گیا، جبکہ حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں اس کی مستند نقول تیار کر کے اسلامی ریاست کے مختلف علاقوں میں بھیجی گئیں، جس سے قرآنِ کریم کی حفاظت اور یکسانیت کو مزید مضبوط بنیاد فراہم ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پراسرار نقاب پوش کون تھا؟
قرآنِ کریم میوزیم میں محفوظ یہ نوادرات ابتدائی اسلامی دور کی علمی کاوشوں اور کاتبانِ وحی کی عظیم خدمات کی یاد دلاتے ہیں، جنہوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود اللہ تعالیٰ کے کلام کو محفوظ رکھنے کی تاریخی ذمہ داری احسن انداز میں انجام دی۔