امریکا کے نئے حملے، ایرانی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کے خلاف مسلسل تیسری رات فضائی حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری نقصان پہنچانے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے جاری رہیں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے شہر بندرعباس میں دھماکے سنے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا ایران پر بھرپور حملے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کا متبادل تیار: متحدہ عرب امارات کا نئی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت ایران کے لیے ایک امتحان تھی، تاہم ایران نے اس کی پاسداری نہیں کی۔ہم وسطی ایران کے کوہ کولانگ گاز لا کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میری اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ بہت اچھی ہم آہنگی ہے اور ہمارے تعلقات خوشگوار ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ایران آبنائے کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے لکھا امریکی صدر درست کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں سہولت فراہمی پر معاوضہ ملناچاہیے لیکن جو تجارتی جہازوں کوپُرامن گزرگاہ کی سہولت فراہم کرتا، معاوضہ اسے ملنا چاہیے۔
ایرانی وزیرخارجہ نے کہا امریکی صدر کی 20 فیصد شرح بہت زیادہ ہے، ہم منصفانہ رویہ اختیار کریں گے۔