یورپ میں شدید گرمی سے جون میں 10 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے
حکام کے مطابق گرمی سے جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً 9 ہزار افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زائد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید درجہ حرارت کا سب سے زیادہ اثر بزرگ شہریوں اور دیگر حساس طبقات پر پڑا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار 27 یورپی ممالک سے جمع کیے گئے ہیں، صرف انگلینڈ اور ویلز میں گرمی کے باعث تقریباً 2 ہزار 700 اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ فرانس اور اسپین میں بھی مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں یورپ میں گرمی کی شدت اور دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے صحت عامہ کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں، ان کے مطابق بزرگ افراد، بچے اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب اسپین کے علاقے کاتالونیا میں پروٹیکشن سول نے گرمی کی تیسری لہر کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق گرمی کی موجودہ لہر کم از کم بدھ تک برقرار رہے گی، جبکہ اس دوران صحارا کے گرد و غبار کے باعث فضائی معیار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ نئی فہرست آگئی
فائر بریگیڈ نے جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اپنی نفری اور کنٹرول رومز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں اور ممکنہ حد تک ٹھنڈی جگہوں پر قیام کریں۔