امریکہ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی یہ ہدایات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور ایران کے ساتھ اہم تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، پابندیوں اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتی ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ سفارتی رابطوں کا تسلسل خطے میں ممکنہ بحران سے بچنے اور دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اعلیٰ امریکی حکام کو ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی میں ایک متوازن حکمت عملی دکھائی دے رہی ہے، جس کے تحت ایک جانب ایران پر سیاسی اور معاشی دباؤ برقرار رکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری آرام گاہ کی پہلی تصویر سامنے آگئی
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی آئندہ بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا مرکزی محور رہیں گے، اگر سفارتی رابطے مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہیں تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کی نئی امید بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کی سیاسی خواہش، باہمی اعتماد اور اہم تنازعات پر لچکدار مؤقف اختیار کرنے پر ہوگا، کیونکہ ماضی میں بھی کئی ادوار میں مذاکرات مختلف وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔