امریکی فوج کے ایران میں 90 اہداف پر حملے
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران پر حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا، ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائراور بحری فوجی صلاحیتیوں کو بھی نشانہ بنایاگیا جبکہ ایران کے ساحلی علاقوں میں قائم فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے گئے۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے جنوب مشرقی ایران کے ایرانشہر ائیرپورٹ کی تنصیبات پر حملے میں ایک فائر فائٹر جاں بحق ہوگیا۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر اور ایرانشہر کے گورنر نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 12:30 بجے شہر بھر میں 4 زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ کے معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ متعدد گولے ائیرپورٹ کی فلائٹ آپریشنز کی عمارت اور محکمہ موسمیات کے اسٹیشن سے ٹکرائے، جس کے نتیجے میں دونوں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم ڈیوٹی پر موجود فائر فائٹر خالد قادری حملے میں جاں بحق ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملوں کا سخت اور تباہ کن جواب دیں گے، ایران
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ چابہار میں دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے، بوشہر صوبے کے قریب بھی دھماکے سنے گئےہیں۔ بوشہر پر امریکی حملے سے جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چا بہار پر امریکی حملے کے باعث پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی اسپتال پر گرا ہے، ایران کے ابوموسی جزیرے میں بھی دھماکے سنےگئےہیں۔
ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ٹیلیفون کر کے کہا ہے کہ وہ امریکا سے ڈیل کرنا چاہتا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کس ایرانی اہلکار نے کس امریکی اہلکار کو ٹیلیفون کیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ اہلکار کسی قابل ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ آیا وہ ایرانی اہلکار اُس ڈیل کو پورا بھی کریں گے یا نہیں۔یہی اصل مشکل ہے۔
اس سوال پر کہ آیا امریکی صدر کے طیارےکو ایران سے خطرہ ہے؟ صدرٹرمپ نے کہا کہ انہیں ہر وقت خطرات درپیش ہیں، وہ ایران کی ہٹ لسٹ پر سرفہرست ہیں۔
ایک اور سوال پر صدرٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران پر سخت حملہ کیا ہے۔ ایران کے ایک حملے کے جواب میں 20 بار حملے کیے جاتے ہیں۔