امریکا کے ایران پر حملے،میزائل و ڈرونز تنصیبات کو نشانہ بنایا
سینٹکام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے 25 جون کو ایم وی ایور لوولی نامی تجارتی جہاز پرحملہ کیا جس کے جواب میں امریکی فضائیہ نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر اور ریڈار مراکز پر حملے کیے۔
بیان میں کہا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی بلااشتعال کارروائی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
سینٹکام کے مطابق ایران کا یہ اقدام عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور کرنے کی تیاری
امریکی فوج نے کہا کہ فورسز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے کے لیے بدستور موجود ہیں اور ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر وقت چوکس ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
The U.S. attacked Iran in the middle of negotiations once again.
— ابراهیم عزیزی (@Ebrahimazizi33) June 26, 2026
The failed U.S. President has shown he has no commitment to the principles of negotiation or a ceasefire.
This reckless violation of the ceasefire will, as always, lead to retreat and regret on their part.
The…
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہجنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح امریکا کے لیے پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی۔
ایرانی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا اور امریکا کو اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔