امریکا نے ایران کو خام تیل برآمد کرنے کی اجازت دیدی
امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی فروخت کے لیے عارضی جنرل لائسنس جاری کر دیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران 21 اگست تک تیل اور پیٹروکیمیکل ایکسپورٹ کر سکتا ہے ، ایران کو بینکاری، انشورنس اور شپنگ سمیت ایرانی تیل کی تجارت سے وابستہ خدمات کی اجازت بھی دیدی گئی۔
واضح رہے کہ امریکی رعایت میں شمالی کوریا اور کیوبا سے متعلق لین دین شامل نہیں ہے۔
قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی کی انتھک کوششیں رنگ لے آئی ہیں، لبنان جنگ کے خاتمے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تیل اور پیٹرو کیمیکل برآمدات پر سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران پر لگی اقتصادی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے جبکہ منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ بھی بحال کر دیا گیا ہے، ایران کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ اس تمام پیش رفت کا پہلا حقیقی امتحان 'لبنان ڈی کنفلیکشن سیل' ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کا آغاز
دوسری جانب امریکی نائب صدرجےڈی وینس نے نیوز کانفرنس کے دورا ن کہا کہ آبنائے ہرمز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے، ایرانی وفد کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بہت سے معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے، ایران کے ساتھ جوہری معاملات پر بھی پیشرفت ہوئی، ایران امریکہ تکنیکی مذاکرات آئندہ دنوں اور ہفتوں میں بھی جاری رہیں گے۔
نائب امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے ملک میں آئی اے ای اے کو آنےکی اجازت دے دی ہے، مستقبل کے لائحہ عمل کےلیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔