پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کا آغاز
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں شروع ہونے والے مذاکرات میں امریکی اور ایرانی وفود آمنے سامنے بیٹھ گئے، تکنیکی مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کا لائحہ عمل طے ہو گا۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد میں شامل ہیں جبکہ ایران وفد محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں مذاکرات میں شریک ہے جبکہ عباس عراقچی بھی ایرانی وفد کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کانفرنس ہال آمد پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وفد کا استقبال کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ یہ عالمی امن کیلئے اہم موقع ہے، صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث مذاکرات ممکن ہوئے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں امن کے فروغ کے لیے ایران سے بھی مثبت کردار کا خواہاں ہے اور مستقبل کے لیے بہترین فیصلے کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک بہترین سپہ سالار ہیں، جنہوں نے امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا لبنان پر حملہ، امریکی صدر کا سخت ردعمل
جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے، ہم مستقبل کیلئے مزید بہتر کام کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔
دوسری جانب قطر کے وزیراعظم نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ امن عمل صرف آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں اور آج ہونے والی پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔