ایران امریکا معاہدے کے ممکنہ نکات سامنے آگئے
پہلا نکات: دونوں فریق جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔
دوسرا نکات: ایران اور امریکا ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
تیسرا نکات: دونوں ممالک 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کریں گے جس میں باہمی رضامندی سے توسیع ممکن ہو گی۔
چوتھا نکات : دونوں جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور 30 دن کے اندر بحری آمدورفت کو معمول پر بحال کر دیا جائے گا، امریکا حتمی معاہدے کے بعد اپنے فوجی دستے علاقے سے واپس بلائے گا۔
امریکا ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گا، امریکا ایران کے منجمد اثاثے اور فنڈز جاری کرے گا، ایران کی معاشی بحالی اور ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے میں تعاون کرے گا۔
پانچواں نکات: ایران خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرے گا اور بارودی سرنگوں اور دیگر تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نہ رکا تو بھرپور اور سخت جواب دیں گے، ایران
چھٹا نکات : ایران دوبارہ یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اورافزودہ یورینیم اور دیگر جوہری معاملات کا حتمی فیصلہ بعد کے جامع معاہدے میں کیا جائے گا۔
ساتواں نکات : ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ صورتحال برقرار رکھے گا،امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا۔
آٹھواں نکات: امریکا ایرانی خام تیل، پٹروکیمیکل مصنوعات کو مالی اور تجاری رعایتیں دے گا۔
نواں نکات: حتمی معاہدے پر عملدرآمد اور اس کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کیا جائے گا۔
دسواں نکات : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاہدہ کو لازمی قرارداد قرار دے کر منظوری دے گی۔