ایران امریکا جنگ بندی معاہدے میں تعطل، ٹرمپ بے چین
امریکی نشریاتی ادارے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو اب کسی قسم کی رعایت نہیں دوں گا، ایران جانتا ہے اس کے ساتھ بہت جلد کیا ہونے والا ہے، اس معاملے میں اگلا قدم جلد اٹھایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجاوز مایوس کن ہیں، اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کے 20 سال کے تعطل کی تجویز بھی قبول نہیں، ایران کے معاملے پر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران ہتھیار ڈالتا ہے یہ قبول کرتا ہے کہ ان کی نیوی تباہ ہوچکی سمندر کی تہہ میں غرق ہوچکی اور ایرانی فضائیہ ختم ہوچکی ہے تب بھی امریکی میڈیا ایران کو فاتح قرار دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلئے نئی شرائط پیش کر دیں
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران یہ تسلیم کرتا ہے کہ پوری ایرانی فوج تہران سے نکل چکی ہے ، انہوں نے ہتھیار ڈال کر اپنے ہاتھ اوپر کردئیے ہیں اور اونچی آواز میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ہار چکے ہیں ہم نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں انہوں نے سفید جھنڈے لہر دئیے ہیں پھر بھی بعض میڈیا ادارے یہی مؤقف اختیار کریں گے کہ ایران کامیاب رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی قیادت ہتھیار ڈالنے کی دستاویزات پر دستخط کردیتی ہے اور یہ مان لیتی ہے کہ انہوں نے سپرپاور امریکا سے شکست کھا لی ہے تب بھی بعض میڈیا ادارے اسے ایران کی کامیابی قرار دیں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ابھی یہ جنگ ختم نہیں ہوئی،ڈیموکریٹس اور امریکی میڈیا اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے بلکہ مکمل پاگل ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے یورینیم کی مکمل تخفیف کے بجائے طویل مدت کے لئے یورنییم کی افزادگی کو منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
اس کو بھی دیکھیں: امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر نئے حملوں کی تیاری؟
ادھر ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکا نے نئی ایرانی تجاوز پر اتفاق کرتے ہوئے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔