امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر نئے حملوں کی تیاری؟

Iran-US Tensions
فائل فوٹو
Updated | Published May, 17 2026 |
تہران: (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے لگی ہے، غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکا اور اسرائیل ممکنہ نئی عسکری کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کیخلاف ممکنہ کارروائیوں کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں فوجی تنصیبات اور اہم انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ خلیج فارس میں واقع ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ سے متعلق حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ منصوبوں میں خصوصی کمانڈوز کی تعیناتی اور حساس تنصیبات پر کارروائی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ واقعی شی جن پنگ کے نوٹس پڑھ رہے تھے؟ حقیقت سامنے آگئی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی، معیشت اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ عالمی برادری ممکنہ تصادم سے بچنے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔