ایران کا امریکا سے مذاکرات کی درخواست موصول ہونے کا دعویٰ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے حوالے سے دعوی کیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سفارتی رابطوں میں امریکا کی طرف سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا جسے انہوں نے اہم پیشرفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ باعزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ماضی میں امریکا یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سرگرمیوں پر بات چیت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا: عراقچی

ادھر واشنگٹن سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔

امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ان تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف شامل نہیں جس کے باعث امریکی قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں جن میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی شامل ہے۔ ساتھ ہی تہران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کو امریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جوہری پروگرام پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے امریکہ کو پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔