ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ کے مطابق امریکا نے جس تجارتی جہاز پر حملہ کیا وہ چین سے ایران آرہا تھا، بیان میں ایران فوج نے واضح کیا کہ ایران جلد ہی امریکی فوج کی میری ٹائم اور مسلح ڈکیتی کا جواب دے گا اور جوابی کارروائی کرے گا۔
ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ امریکی حملے کے بعد ایرانی فورسز نے کچھ امریکی فوج کے بحری جہازوں پر ڈرون سے حملہ کیا۔
یاد رہے امن مذاکرات سے پہلے امریکا نے ناکہ بندی توڑنے کے الزام میں ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی پرچم بردار جہاز کو شمالی بحیرہ عرب میں بندرعباس کی طرف جاتے روکا، عملے کی جانب سے ہدایات پرعمل نہ کرنے پر کارروائی کی گئی، جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا، امریکی اہلکاروں نے جہاز پر سوار ہو کر اسے تحویل میں لے لیا، جہاز کی تلاشی کا کام جاری ہے۔
عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق ایم وی توسکا کنٹینر شپ ہے ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے، 7 گھنٹے پہلے ایرانی جہاز کی رفتار انتہائی کم 1.2 ناٹس ریکارڈ کی گئی۔
اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکا نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر اس پر قبضہ کرلیا، امریکی فوج نے ایک ایرانی بحری جہاز کو روکا جو آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ توشکا نامی اس بحری جہاز نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی جو اس کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوئی، جہاز تقریباً 900 فٹ لمبا اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز جتنا وزنی ہے، امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے خلیج عمان میں جہاز کو روکا، جہاز کو رکنے کی وارننگ بھی دی لیکن ایرانی عملے نے سننے سے انکار کر دیا جس کے بعد امریکی بحریہ نے جہاز کے انجن روم میں سوراخ کر کے اسے روکا۔