امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی پرچم بردار جہاز کو شمالی بحیرہ عرب میں بندرعباس کی طرف جاتے روکا، عملے کی جانب سے ہدایات پرعمل نہ کرنے پر کارروائی کی گئی، جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا، امریکی اہلکاروں نے جہاز پر سوار ہو کر اسے تحویل میں لے لیا، جہاز کی تلاشی کا کام جاری ہے۔
عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق ایم وی توسکا کنٹینر شپ ہے ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے، 7 گھنٹے پہلے ایرانی جہاز کی رفتار انتہائی کم 1.2 ناٹس ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت سے انکار
اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکا نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر اس پر قبضہ کرلیا، امریکی فوج نے ایک ایرانی بحری جہاز کو روکا جو آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 19, 2026
انہوں نے بتایا کہ توشکا نامی اس بحری جہاز نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی جو اس کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوئی، جہاز تقریباً 900 فٹ لمبا اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز جتنا وزنی ہے، امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے خلیج عمان میں جہاز کو روکا، جہاز کو رکنے کی وارننگ بھی دی لیکن ایرانی عملے نے سننے سے انکار کر دیا جس کے بعد امریکی بحریہ نے جہاز کے انجن روم میں سوراخ کر کے اسے روکا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدام کو بحری قزاقی قرار دے کر جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی، ترجمان ایرانی فوج کے مطابق امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکی اقدام پر جلد بھرپور ردعمل دیا جائے گا، نشانہ بنایا گیا جہاز چین سے ایران آرہا تھا۔