ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں بتایا گیا کہ ایران امریکا کےساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل نہیں ہو گا۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن کے بے جا مطالبات پر مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے، امریکا ایران سے غیر حقیقی توقعات کر رہا ہے، امریکا کے مؤقف میں ہر لمحہ تبدیلی آ رہی ہے۔
ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی مؤقف تضادات کا شکار ہے،ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ان حالات میں مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کر سکتے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا کی مذاکراتی ٹیم ایران سے مذاکرات کے لیے کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے پاس ایران کو جوہری توانائی سے محروم رکھنے کا جواز نہیں، پزشکیان
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو بہت اچھی ڈیل آفر کی ہے، میں سمجھتا ہوں امن معاہدہ ہو سکتا ہے، ایران سے دوستانہ یامشکل طریقے سےمعاہدہ ضرور ہو گا، یقین ہےہم ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں، اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیں گے، معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں نائب صدر جے ڈی وینس امریکی وفد میں شریک ہوں گے جبکہ نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔