غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ایران میں ممکنہ اہداف کی نئی فہرست تیار کر لی گئی ہے، جن میں توانائی تنصیبات سمیت دیگر اہم مقامات شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عسکری خفیہ ادارے ایران کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کیلئے کوئی طویل مدتی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کی جا سکتی ہے، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے نمائندے مذاکرات میں مصروف ہیں، تاہم حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت اپنے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے مختلف بیانات دے رہی ہے، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی قیادت کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی جا سکتی ہے، چاہے جنگ بندی میں توسیع کی جائے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہماری میزائل بنانے کی صلاحیت کو نہیں روکا جا سکتا، ایران
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو خطے میں ایک بڑی جھڑپ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔