ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا، وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے دیگر اراکین شامل ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا ،وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وفد میں صرف مذاکرات کار ہی نہیں بلکہ تکنیکی ماہرین، مشاورتی کمیٹیاں، سیکیورٹی اہلکار اور میڈیا نمائندگان بھی شامل ہیں، تاکہ حساس اور پیچیدہ مذاکرات میں ہر پہلو سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اہم رکن کے طور پر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا سے مذاکرات کیلئے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات نہایت حساس نوعیت کے ہیں، اسی لیے وفد میں تکنیکی اور ماہرین پر مشتمل ٹیمیں بھی شامل کی گئی ہیں جو مختلف معاملات پر فوری مشاورت فراہم کریں گی۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان آمد کے موقع پر ایک جذباتی منظر سامنے آیا ، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دورانِ پرواز ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے دنیا کی توجہ مناب سانحے کی جانب مبذول کرا دی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ پوسٹ میں باقر قالیباف نے طیارے کے اندر لی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سفر کے دوران یہ میرے ساتھی ہیں۔ تصویر میں جہاز کی نشستوں پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر رکھی گئی تھیں، جنہیں پھولوں سے سجایا گیا تھا، جبکہ بچوں کے بستے اور جوتے بھی نمایاں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئے
یہ خصوصی پرواز مناب 168 کے نام سے اسلام آباد پہنچی، جس میں ایرانی وفد اپنے ہمراہ ان معصوم بچوں کی یادیں لے کر آیا جو 28 فروری کو جنگ کے ابتدائی روز مناب کے ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں کم از کم 168 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔
ایرانی وفد کی جانب سے شہید بچوں کی تصاویر اور ذاتی اشیاء ساتھ لانے کا مقصد نہ صرف انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے بلکہ عالمی برادری کو اس سانحے کی سنگینی کا احساس دلانا بھی ہے۔