ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے دیگر اراکین شامل ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا ،وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی حکام آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے وزیرِاعظم ہاؤس میں ملاقات کی ،ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار،چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب کی پاکستان کے لیے مسلسل معاشی و مالی معاونت قابلِ قدر ہے، پاکستان اور سعودی عرب ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، سعودی وزیر خزانہ نے بھی پاکستان کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
.jpg)
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور امریکا، ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی مؤثر سفارتی کاوشوں کو بے حد سراہا۔
.jpg)
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم سٹارمر نے اسلام آباد امن مذاکرات کی میزبانی پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ جنگ بندی برقرار رہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے سازگار ماحول ہونا چاہئے۔
دوسری طرف مذاکرات سے قبل دونوں ممالک کی طرف سے مثبت اشارے مل رہے ہیں ، ایران نے امریکی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی ہے، ایران کے نائب وزیرِ خارجہ خطیب زادہ نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ کسی قسم کی دشمنی پر مبنی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد کردہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی ضروری ہے ، فریقین کے مابین باہمی طور پر طے پانے والے دو معاملات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے، ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے یہ دونوں معاملات حل ہونے چاہئیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں ایران کے سفیر سے ٹیلی فونک گفتگو کے کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرنیکا وعدہ کیا تھا، واشنگٹن کو اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی ہوگی۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا تاہم امریکا کی دھوکا دہی والی فطرت کے سبب گہرے شکوک و شبہات باقی رہیں گے۔ انہوں نے امریکا اوراسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کاوشوں کی ستائش کی اور کہا کہ ایران اسلام آباد مذاکرات میں پوری اتھارٹی کے ساتھ شرکت کرے گا ،ان مذاکرات کا ہدف اپنی فوجی کامیابیوں کوسفارتی طور پر مزید تقویت دینا ہوگا۔

نائب صدر نے مزید کہا کہ جنگ کے ان 40 دنوں میں ایران نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کیا، یہ جنگ سٹریٹجک حکمت عملیوں میں علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے لیے فیصلہ کن موڑ ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے مظاہروں کو سوفٹ پاور قرار دیا۔
دریں اثنا امن مذاکرات کی کوششوں کے دوران لبنان کے شہر نبطیہ پر اسرائیلی حملوں میں سٹیٹ سکیورٹی ادارے کے 13 اہلکارشہید ہو گئے، لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کے جنگی طیاروں نے شہر پر شدید حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں ایک حملہ نبطیہ کی سرکاری عمارت کے قریب کیا گیا، بمباری سے کئی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ہو سکتا ہے، مثبت سمت میں پیش رفت جاری ہے ، اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا، امریکی صدر نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی، خطے میں کشیدگی میں کمی متوقع ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کئے ہوئے ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے، امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
Arrival of the delegation of the Islamic Republic of Iran for Islamabad Talks pic.twitter.com/aJYU9cx5t2
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 10, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں جانب سے سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے جو ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے، اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی، امریکی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کے آغاز سے قبل سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ د نیا کی طاقتور ترین نئی شروعات ہونے جا رہی ہے۔
همراهان من در این پرواز#Minab168 pic.twitter.com/xvXmDlSDiF
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026
دوسری طرف نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں انہوں نے خبردار بھی کیا کہ امریکا اپنے بحری جہازوں کو بہترین ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے، اگر معاہدہ نہ ہوا تو ا نہیں استعمال کریں گے، دنیا کا سب سے طاقتوری سیٹ ہے، مذاکرات کی کامیابی کا 24 گھنٹوں میں معلوم ہوجائے گا، ہم اپنے جہازوں پر بہترین ہتھیار لاد رہے ہیں، یہاں تک کہ اس سے بھی بہترین سطح کے ہتھیار جو ہم مکمل تباہی کے لیے استعمال کرتے ہیں، اگر ہمارا معاہدہ نہ ہوا تو پھر ہم ان ہتھیاروں کو استعمال کریں گے اور بہت موثر طریقے سے استعمال کریں گے ، ایرانی ایسے لوگ ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے کہ وہ سچ کہتے ہیں یا نہیں۔
& this is how we welcomed our Iranian Brothers, PAF GOING INTO FULL ROAR MODE ❤🇵🇰 pic.twitter.com/e16CphtMYt
— Pakistan Strategic Forum (@ForumStrategic) April 10, 2026
ادھر مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہونے سے قبل میری لینڈ ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی قیادت نیک نیتی کے ساتھ بات چیت پرآمادہ ہوئی تو امریکا بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کو تیار ہے، اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا، چالاکی کی کوشش کی تو امریکی مذاکراتی ٹیم مثبت ردعمل نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعمیری گفتگو کے خواہاں ہیں ،جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے رہنما اصول فراہم کئے ہیں ان کی گائیڈلائن کے تحت مذاکرات میں شریک ہوں گے ، یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہیں گے ۔