روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جسے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی قبول کر لیا ہے۔
یہ جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے انسانی بحران کو جنم دیا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عارضی سیز فائر اگرچہ محدود مدت کیلئے ہے، تاہم اس سے مستقبل میں مستقل امن کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ایسٹر کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان 30 گھنٹوں کی جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم اس دوران دونوں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آئے تھے، جس کے باعث یہ معاہدہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار امریکا کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے، اگرچہ یہ جنگ بندی وقتی ہے، لیکن اس سے انسانی جانوں کے ضیاع میں کمی اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو موقع مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں جاری مذاکرات سے بہت پُرامید ہوں: امریکی صدر ٹرمپ
عالمی برادری اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کر رہی ہے کہ یہ قدم خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔