امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہوں اور توقع رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی، خطے میں کشیدگی میں کمی متوقع ہے اور اسرائیل بھی اپنے حملے کم کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بینجمن نیتن یاہو نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات، کون کونسی شخصیات شامل ہونگی؟
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں (ٹینکرز) سے فیس وصول کر رہا ہے، جس پر انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر یہ خبریں درست ہیں تو ایران فوری طور پر یہ عمل بند کرے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی اضافی فیس یا رکاوٹ عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، امریکا اس صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے اور اگر ایران نے اس عمل کو جاری رکھا تو اس کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔