وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پر چلنے والی ایرانی تجاویز وہ نہیں جو صدر ٹرمپ کے سامنے رکھی گئی تھیں،میڈیا پر چلنے والی دستاویزات وہ نہیں جن پر امریکی حکام کام کررہے ہیں، ہم سب کے سامنے ایران سے مذاکرات نہیں کر رہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ سیزفائرامریکہ کی جیت ہے، اس ہفتے اسلام آبادمیں مذاکرات ہوں گے، جے ڈی وینس مذاکرات کرنے والی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر حملے کیے گئے، امریکا کے 13 فوجیوں نے اپنی قربانی پیش کی، امریکا نے جنگ میں اپنے اہداف 38 روز میں حاصل کر لیے، ایران کے بیلسٹک پروگرام کو برسوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ امریکا اور یران مذاکرات سے غیر متعلق افراد جعلی خطوط اور فہرستیں پھیلا رہے ہیں، ایسے افراد دھوکہ باز اور جعلساز ہیں، جلد بے نقاب ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے لیے قابلِ قبول نکات محدود ہیں، بند دروازوں کے پیچھے بات چیت جاری ہے، جنگ بندی انہی نکات کی بنیاد پر طے ہوئی، یہ نکات معقول اور قابلِ عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان پر اسرائیلی حملے، ایران کا جنگ بندی سے دستبرداری کا عندیہ
امریکی صدر نے کہا کہ بغیر اختیار ذرائع کے دعوے گمراہ کن ہیں، وفاقی تحقیقات مکمل ہونے پر انہیں بے نقاب کر دیا جائے گا، بغیر اختیار افراد کی جانب سے جاری معلومات پھیلانے والوں کے پاس کسی قسم کی اتھارٹی نہیں، میڈیا کے بعض ادارے غیر مستند ذرائع کو بنیاد بنا کر گمراہ کن خبریں نشر کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں ترک صدر طیب اردوان نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں کےدرمیان خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، ترکیہ اورامریکی صدور کے درمیان 2 ہفتے کی جنگ بندی پر بھی بات چیت ہوئی۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ عارضی سیز فائر مستقبل امن حاصل کرنے کا موقع ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے،امن مذاکرات اور معاہدے کے لئے بات چیت کو کسی صورت بھی ڈی ریل نہیں ہونے دینا چاہیے، جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر پائیدار امن معاہدہ یقینی بنایا جائے۔
طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ ترکیہ سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان و دیگر دوست ممالک کےساتھ مل کر پائیدار حل کیلئےآگے بڑھیں گے۔