یہ مسودہ منگل کے روز ایک تکنیکی کمیٹی نے منظور کیا۔ حکام کے مطابق یہ تبدیلیاں خاص طور پر نرسری سے دوسری جماعت تک کے طلبہ کے لیے کی جا رہی ہیں جن پر تعلیمی سفر کے آغاز میں ہی زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔
وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے کہا کہ نظرثانی شدہ منصوبے کو مزید مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی اور پھر اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ ابتدائی جماعتوں کے بچے موجودہ نظام کے دباؤ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم بی بی ایس کے نصاب میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری
حکومت شہری تعلیم کو ایک نئے انداز میں سماجی علوم کے مضمون کے ذریعے دوبارہ متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ حکام کے مطابق نئے نصاب میں زندگی کی حفاظت کی مہارتیں، موسمیاتی تبدیلی، اور مالیاتی آگاہی جیسے موضوعات کو بھی شامل کیا جائے گا۔
وزارتِ تعلیم چاہتی ہے کہ نیا نصاب اگلے تعلیمی سال سے نافذ کیا جائے۔ حکام کے مطابق وفاقی حکومت اور تمام صوبے اس مجوزہ منصوبے پر متفق ہیں۔
یہ مسودہ تکنیکی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں زیرِ بحث آیا جس میں اسلام آباد، صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔