اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط کارروائی میں لبنانی دارالحکومت بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد کمانڈ سینٹرز اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق عارضی جنگ بندی کے باوجود دہشت گرد اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری ہیں جن میں 87 افراد شہید جبکہ 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے ایران امریکا عارضی سیز فائر کا حصہ نہیں، حزب اللہ کی وجہ سے ایران امریکا معاہدہ میں لبنان کے تنازع کو شامل نہیں کیا گیا۔
ادھر ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو تہران جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
خبررساں ادارے نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ اگر صہیونی فورسز کی لبنان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو جنگ بندی سے علیحدگی اختیار کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی پر ایران کی 10 شرائط کیا ہیں؟
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات تنازع کے علاقے کے چند مقامات سے موصول ہوئی ہیں، یہ امن عمل کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں، میں خلوص دل سے تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ فریقین طے شدہ دو ہفتوں تک جنگ بندی کا احترام کریں تاکہ سفارت کاری کو تنازع کے پُرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔