ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے بھجوائے گئے ردِعمل میں 10 نکات کو شامل کیا گیا ہے، ایران کے نکات میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے ضابطہ کار، پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی اسرائیلی حملوں کے نقصانات کی تعمیرِ نو بھی شامل ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عقلمند شخص ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 15 نکاتی امریکی منصوبہ غیر منطقی اور افسانوی ہے، ایران کے توانائی اور صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی باتیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی جنگی جرائم اور انسانیت کیخلاف جرم کے مرتکب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکیوں کیساتھ گالی بھی دیدی
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ یہ ضمانت بھی چاہیے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ نہ ہو اور یہ ضمانتیں کسی بین الاقوامی ادارے سے نہیں بلکہ طاقت اور جوابی حملوں کے ذریعے حاصل ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی دراصل صرف ایک وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، ایران کا اصل مطالبہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہے نہ کہ وقتی توقف کرنا ہے، ایران نے جنگ بندی کیلئے مطالبات کا جامع فریم ورک تیار کرلیا ہے جسے مناسب وقت پر سامنے لایا جائے گا۔