ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی اور حالت کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران منصب سنبھالنے بعد سے اب تک وہ ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔
اب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں روس کے سفیر نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے اندر ہی موجود ہیں، تاہم وہ ’’قابلِ فہم وجوہات‘‘ کے باعث منظر عام پر نہیں آئے۔
واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا، اس کے بعد سے وہ مسلسل منظر عام سے غائب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبور کر دیگا، مجتبیٰ خامنہ ای
ان کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام بیانات، جن میں 12 مارچ کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل ہے، تحریری طور پر جاری کیے گئے جنہیں سرکاری ٹی وی کے اینکرز نے پڑھ کر سنایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے نئے رہنما ’’شہید یا شدید زخمی‘‘ بھی ہو سکتے ہیں، جس کے بعد ان کی حالت سے متعلق شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔