ایرانی سپریم لیڈر سید مجتبیٰ علی خامنہ ای نے قوم سے خطاب میں تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دی۔
اپنے پیغام میں ایرانی سپریم لیڈر سید مجتبیٰ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ہم نے روزے اور جہاد کو ایک ساتھ جاری رکھا ، اللہ کا شکر ہے کہ دشمن ٹوٹ چکا ہے، ہمارا اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبور کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے بہادر صدر اور دیگر تمام حکام کو سلام پیش کرتا ہوں، دشمن کا مقصد ایرانی عوام میں ڈر پیدا کرنا تھا مگر اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، جنگ میں قوم کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، نیا سال مضبوط معیشت کا سال ہو گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، ہم دنوں ممالک کے درمیان ثالِثی کے لیے تیار ہیں، ہم اپنےمشرقی ہمسایہ ممالک کے بہت قریب ہیں، دشمن ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے، پاکستان ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ترکیہ اور عمان میں ایرانی فوج نے حملے نہیں کیے، ایران کسی عام شہری یا ملک کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ صرف امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی، ایران خطے میں امن کا خواہاں ہے تاہم اپنے دفاع اور شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے ہر اُس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ اور حملوں میں شہید ہوا ہے، اپنے شہداء کے خون کے بدلے کے حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔