ایرانی حکام کے مطابق وہ ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ علی رضا تنگسیری ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کر رہے تھے، ان کی شہادت ایک بڑا نقصان ہے، بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ 26 مارچ کو ایک کارروائی کے دوران ایرانی اعلیٰ فوجی افسران کو نشانہ بنایا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ یہ حملہ ایرانی شہر بندر عباس میں کیا گیا جہاں علی رضا تنگسیری موجود تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور
یہ پیش رفت عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہونے کا امکان ہے۔
عوامی اور سفارتی حلقوں کی نظریں اب ایران کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں، جو خطے کے امن و استحکام کیلئے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔