ذرائع کے مطابق حکومت کے زیر غور دو آپشنز ہیں پہلا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کیا جائے، جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں کے لیے 20 لٹر اور رکشوں کے لیے 30 لٹر تک ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے ۔ اس مجوزہ سبسڈی سکیم کے لیے چار سے چھ ہفتوں کے عرصے میں تقریباً 300 ارب روپے درکار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
حتمی فیصلے کے لیے صدر مملکت، وزیرِاعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے، وزارت پٹرولیم نے وفاق اور صوبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کا ذخیرہ 10 مئی 2026 تک گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور قیمتوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں فی الحال ایندھن کی فراہمی مستحکم اور تسلی بخش ہے۔