حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق مٹی کا تیل 4 روپے 66 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا گیا ہے، اور اس اضافے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 433 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ قیمت 428 روپے 74 پیسے فی لیٹر تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ مٹی کا تیل ملک کے دور دراز علاقوں اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے ایک اہم ایندھن سمجھا جاتا ہے، جو گھریلو استعمال خصوصاً کھانا پکانے اور روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قیمت میں حالیہ اضافے کے باعث ان طبقات کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
یاد رہے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے اضافے کی تجویز دی گئی جو میں نے مسترد کر دی، وفاقی حکومت نے رواں ہفتے مزید 56 ارب روپے کا بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے آج کی تاریخ میں پٹرول 544 روپے فی لٹر ہونا چاہیے تھا جو حکومت عوام کو 322 روپے میں دے رہی ہے جبکہ ڈیزل کی فی لٹر قیمت 790 روپے ہونی چاہیے تھی جو حکومت آپ کو 335 روپے میں فراہم کر رہی ہے، میرے لیے عوام کے معاشی تحفظ کے سوا کچھ نہیں ہے، دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دو گنا ہو چکی ہیں لیکن حکومت نے مہنگائی کے اس طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روک رکھا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی محاذ پر دن رات متحرک ہیں، پاکستان دو محاذوں پر نہایت کامیابی سے کام کر رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ خطہ اور دوست ممالک تباہ کن جنگ سے نجات پائیں، میں نے متعدد بار ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے تفصیلی گفتگو کی، پاکستان کی سفارتی کوششیں محض بین الاقوامی کوشش نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے۔