ٹرمپ کا ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور کیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور شروع کر دیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔ حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یورینیم نکالنے کا پیچیدہ اور خطرناک مشن امریکی فورسزکو کئی دن ایران کے اندر رکھے گا، صدر ٹرمپ نے ایران سے یورینیم نکالنے کا فیصلہ نہیں کیا، لیکن یہ آپشن موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زمینی حملے کی صورت میں امریکی فوجی شارک کی خوراک بنیں گے: ایران

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشیروں پر زور دیا ہے کہ ایران پردباؤ ڈالیں کہ جنگ ختم کرنےکی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے۔ اگر ایران مذاکرات میں یورینیم نہیں دیتا تو ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں، یورینیم قبضے میں لینےکیلئے ٹارگیٹڈ آپریشن جنگ کی ٹائم لائن کو زیادہ نہیں بڑھائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق پینٹاگون کاکام کمانڈر انچیف کیلئے زیادہ آپشن کی تیاری ہے، زیادہ آپشن کا مطلب یہ نہیں کہ صدر نے فیصلہ کرلیا، تاہم پینٹاگون اور سینٹ کام کے ترجمان نے اس خبر کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ امریکا پہلے بھی 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم نکال چکا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے خُنداب میں جوہری پلانٹ پرحملے میں نقصانات کی تصدیق کر دی۔

آئی اے ای اے نے کہا ایران نے27 مارچ کو خُنداب میں حملےکی اطلاع دی تھی، پلانٹ اب غیرفعال ہے، خُنداب تنصیب میں کوئی اعلان شدہ جوہری مواد موجود نہیں ہے۔