غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماسکو نے تہران کے ساتھ عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روس ایران کو سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے، جس سے ایران کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس تعاون کا مقصد ایران کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی افواج کیخلاف اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں مدد دینا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ روس اور ایران کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں بھی تیزی آئی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مزید گہرے ہو رہے ہیں، یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ روس مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کیلئے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ جاری کشیدگی سے روس کو فوجی اور اقتصادی فوائد حاصل ہو رہے ہیں، جس کے باعث وہ اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کیلئے اسلام آباد میں اہم سفارتی اجلاس
دوسری جانب عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کیلئے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔