علی لاریجانی شہید طویل عرصے تک ایران کی سیکیورٹی پالیسی کے پسِ پردہ معمار سمجھے جاتے تھے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کیلئے علی لاریجانی ایک اہم ہدف بن چکے تھے، تاہم ان کا سراغ لگانا آسان نہیں تھا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی قیادت نے سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات نافذ کر دیے تھے، جس کے باعث لاریجانی مسلسل اپنی رہائش اور مقام تبدیل کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف خفیہ مقامات پر منتقل ہوتے رہے تاکہ اپنی موجودگی کو پوشیدہ رکھا جا سکے، یہی وجہ تھی کہ جب تک انٹیلی جنس ادارے کسی ایک مقام تک پہنچتے، وہ وہاں سے منتقل ہو چکے ہوتے تھے، بالآخر ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ان کی موجودگی سے متعلق حساس معلومات حاصل کی گئیں۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کے نواحی علاقے پردیس میں ان کی بیٹی کے گھر پر حملہ کیا گیا، جہاں وہ ملاقات کیلئے گئے تھے، اس حملے میں علی لاریجانی کے ساتھ ان کے بیٹے مرتضیٰ، ایک نائب اور متعدد محافظ بھی مارے گئے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو ان کی موجودگی کے بارے میں مقامی شہریوں سے معلومات فراہم کی گئیں، جس کے بعد یہ کارروائی ممکن بنائی گئی۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق یہ حملہ انتہائی اہم اور مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی انٹیلیجنس منسٹر اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق
مزید بتایا گیا ہے کہ علی لاریجانی کی حالیہ عوامی سرگرمیاں، خاص طور پر القدس ڈے ریلیوں میں شرکت اور میڈیا میں نمایاں موجودگی، ان کی شناخت کو آسان بنانے کا سبب بنیں، ان عوامل کے باعث وہ دوبارہ عوامی نظروں میں آ گئے، جس نے ان کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا۔
خیال رہے کہ اس واقعے نے نہ صرف ایران کے اقتدار کے ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔