اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ تہران پر ہونے والے حملوں میں ایرانی انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب شہید ہو گئے ہیں تاہم ایران کی جانب سے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی لیکن اب ایرانی صدر نے اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا ہے، فوج کو اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار دے دیا ہے، اسرائیلی فوج آئندہ بھی ایسے اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی اور انہیں تلاش کرکے ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا۔
قبل ازیں اسرائیل نے ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو بیٹے مرتضیٰ سمیت شہید کر دیا، ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ان کا متبادل کون؟ ممکنہ نام سامنے آگیا
اسرائیلی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں پناہ لیے ہوئے تھے، یاد رہے علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔
علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے ایران کی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی پاسداران انقلاب نے شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا غلام رضا سلیمانی کی شہادت کے بعد وہ خون کا بدلہ لینے کے جذبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔